یہ رَنج پُوچھ تُو جاں سے گُزرنے والے سے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 114
پسند: 0
یہ رَنج پُوچھ تُو جاں سے گُزرنے والے سے
خُوشی بھی رُوٹھ گئی ہے سنورنے والے سے
ہمارا رِزق اُسی کے ہے ہاتھ میں لِکھّا
اُمیدیں سَب کی ہیں گھر سے نِکلنے والے سے
کِسی نے جانا نہیں خاک کی حقیقت کو
کِسی نے پُوچھا نہیں کُچھ بِکھرنے والے سے
عجیب طرح کا عَالم ہے اِن فَضاؤں میں
ہیں رُوٹھے سارے ہی مَنظر اُجڑنے والے سے
ہَوا بھی ریت پہ لِکھ کے گئی ہے یہ نوحہ
بَڑا قریب تھا دَریا تڑپنے والے سے
مَیں کیسے اَشک چھُپاؤں بتاؤ آنکھوں میں
مَیں کیسے ہاتھ مِلاؤں بِچھڑنے والے سے
وہ ایک شخص ہی تَنہا نہیں زمانے میں
گُریزاں سَب ہی ہیں مانیؔ جھگڑنے والے سے
واپس جائیں