یادیں ہیں دفن نیچے ملبہ نِکالیے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 127
پسند: 0
یادیں ہیں دفن نیچے ملبہ نِکالیے
ذہنوں میں جو بھرا ہے کچرا نِکالیے
کرتے ہیں یاد مِل کے ماضی کو آج ہم
بچپن کی یاد کا پِھر بستہ نِکالیے
خدشہ ہے گِر نہ جائے اِک دِن یہ اپنا گھر
دِیوار میں سے اِینٹیں خستہ نِکالیے
کب تک ہمیں ہے پھِرنا یادوں کے دَشت میں
یادیں بھٹک رہی ہیں نقشہ نِکالیے
کہتی ہے آج مُجھ سے چلتی ہوئی ہَوا
پنچھی رِہا ہے کرنا پِنجرہ نِکالیے
ایسی یہ دُنیا کِیُوں ہے، ماضی میں جھانک کر
نسلوں کا اپنی اپنی شجرہ نِکالیے
ہاتھوں پہ ہاتھ رَکھ کے بیٹھیں نہ اِس طرح
مُشکِل میں کوئی مانیؔ رَستہ نِکالیے
واپس جائیں