ایک نظم ڈاکٹر آئی ڈی شہباز * کے لئے
(پنجابی زبوروں کے مُترجم، عظیم شاعر، موسیقار اور مُبلّغ)
مَیں لے کے آیا ہُوں اِک کہانی
کہانی زِندہ رہے گی ہر دَم
کہانی شہباز کی ہے یہ تو
کہ مثلِ پولُوس چُن لِیا تھا
مسیح نے اُس کو سُن لِیا تھا
مسیح میں پا کے اِک حیاتی
وہ ہو گیا تھا اُسی کا ہرپل
نگر نگر اُس نے کی منادی
مسیح کا تھا وہ سچّا پیرو
یہ کارِ خِدمت مِلا تھا اُس کو
کہ نظم میں وہ زبور لائے
زبور ہم سب جو گا رہے ہیں
ہے اُن کا سہرا اُسی کے سَر پر
عُبور اُس کو تھا سُر و لے پر
وہ عِلم راگوں کا جانتا تھا
بڑی دلیری سے اُس نے دیکھو
خُدا سے اپنی وَفا نِبھائی
اگرچہ بینائی نہ رہی تھی
وہ کارِ خِدمت ہی کر رہا تھا
تمام دُنیا میں لوگ دیکھو
زبور گاتے رہیں گے مِل کر
جلال پائے گا رَب خُداوند
ہمیشہ رکھیں گے لوگ سارے
دِلوں میں اپنے مِثالی خِدمت
* ڈاکٹر امام الدین شہباز جنہیں آئی ڈی شہباز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، معروف پنجابی شاعر اور زبوروں کے پہلے پنجابی مترجم تھے۔ اُنہوں نے تدریس اور منادی کے میدان میں خدمات انجام دیں اور 1887 سے 1904 تک زبوروں کا پنجابی زبان میں ترجمہ مکمل کیا۔ اُن کا یہ کارنامہ آج بھی کلیسیائے پاکستان میں مسیحی عبادات کا اہم حصہ ہے۔