لوٹ کر آئے نہیں شہر سے جانے والے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 119
پسند: 0
لوٹ کر آئے نہیں شہر سے جانے والے
جانے کِس دیس کو جاتے ہیں نہ آنے والے
...
ہم نے ہر بار وَفاؤں کی سزا پائی ہے
ہم نے دھوکے یہاں کھائے ہیں نہ کھانے والے
...
ہم نے خُود کارِ مَحبّت میں قدم رکھّا تھا
ہم ہی عاشِق ہیں مِیاں دَشت بسانے والے
...
اُس کو دیکھا تو مِری آنکھ سے چھلکے آنسو
کُچھ تو ہوتے ہی نہیں زخم چُھپانے والے
...
اِن درختوں پہ بھی آسیب کا سایہ ہے کوئی
سانپ بیٹھے ہیں پرندوں کو ستانے والے
...
اب کہ دُشمن کے لئے مَیں نے دُعا مانگی ہے
دوست مِلتے ہیں مُجھے خُون رُلانے والے
...
میرے خوابوں کی یوں تعمیر کہاں مُمکِن ہے
دِل میں رہتے ہیں مِری نِیند چُرانے والے
...
اُن کی یادوں سے نِکلتا ہی نہیں دِل مانیؔ
مَر کے بھی ساتھ نِبھاتے ہیں نِبھانے والے
واپس جائیں