مجھے اک گھر بنانا ہے
پھر اس میں بہت سا
گلاب موتیا چنبیلی
گیندا موگرا اگانا ہے
سفید و جامنی گلابی گل داوی
پھر بوگن ویلیا و ہار سنگھار
رانی رات اور صبح کی سے
اپنےآنگن کومہکانا ہے
کنول کے خوش رنگ پھولوں سے
تتلیوں کو لبھانا ہے
مجھے اک گھر بنانا ہے
رتن جوت یا چاندنی پھول کی بہار
دنیا بھر کا پھول اس میں سجانا ہے
کہیں خاردار کیکٹس کے حسیں پھول
گھنٹیوں سے سرخ وآتشی گلابی امریلیس
کہیں پیارے سے نرگس کے پھول
دیوار پہ لٹکتی جھمکا بیل و دلہا دلہن
سرخ سفید گلابوں کی جھاڑیاں اگاکر
کانٹوں سے پوروں اور ہتھیلیوں پہ
حنائی رنگ چڑھانا ہے
مجھے اک گھر بنانا ہے
اور پھولوں کی صورت میں
چھوٹے چھوٹے بہت سے سورج اگانا ہے
بیجوں کی دعوت پہ چڑیوں کو بلانا ہے
سرد موسم کے خوش رنگ حسیں گلوں سے
آنکھوں کو گرمانا ہے
نرم مخملی سرخ وگہرے گلابی
سلوشیا سےجسم و جاں کو سہلانا ہے
مدھو مکھیوں کو رس پہ بلا کر
ان کے میٹھے شہد سے
کڑوے دہن شیریں بنانا ہے
مجھے اک گھر بنانا ہے
ہر شکل رنگ اور جسامت کے
ڈھیروں پھول اگانا ہے