ہجر کے ساتھ ہاتھ ہو جائے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 108
پسند: 0
ہجر کے ساتھ ہاتھ ہو جائے
رَنج و غم سے نجات ہو جائے
روشنی بانٹ دو زمانے میں
اِس سے پہلے کہ رات ہو جائے
پہلے دِیدار ہو مُجھے تیرا
پِھر فنا میری ذات ہو جائے
مُجھ کو مِل جائے تیرا ساتھ اگر
شبِ ہجراں کو مات ہو جائے
چاند بن کر چمکنا ساتھ مِرے
جب بھی اے دوست رات ہو جائے
تُم میری رُوح میں سما جاؤ
جاوِداں میری ذات ہو جائے
اُس کے رستے میں بیٹھ جا مانیؔ
عین مُمکِن ہے بات ہو جائے
واپس جائیں