راس آئے گی بے گھری ہم کو
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 127
پسند: 0
راس آئے گی بے گھری ہم کو
کب سِکھاتی ہے زِندگی ہم کو
اِن اَندھیروں سے خوف مت کھانا
کہہ رہی ہے یہ روشنی ہم کو
زِندگی نے عَطا کیا ہے بہت
ایک تیری کمی رہی ہم کو
ہم نے خُود کو چُھپا لیا خُود سے
’’زِندگی ڈُھونڈھتی رہی ہم کو‘‘
عُمر بھر رنج و غم نے ساتھ دِیا
ہر خُوشی چھوڑتی گئی ہم کو
رُوٹھ جاتا ہے دَرد کانٹوں کا
پھُول دینا نہ پھِر کبھی ہم کو
ہِجر اِتنی بڑی اَذیّت ہے
پَل بھی لگتا ہے اِک صدی ہم کو
لگ نہ جائے کہیں کِسی کی نظر
بعد مُدّت مِلی خُوشی ہم کو
ہم بھی مِثلِ چَراغ تھے یارو
کھا گئی ہے یہ تیِرگی ہم کو
جِس میں بچپن گُزر گیا مانیؔ
یاد آتی ہے وہ گلی ہم کو
واپس جائیں