ہم نے یہ بات آزمائی ہے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 110
پسند: 0
ہم نے یہ بات آزمائی ہے
بے وَفائی تو بے وَفائی ہے
جھُوٹ سچ کا گُماں نہیں ہوتا
اُس کی باتوں میں کیا صفائی ہے
دِل دھڑکنا ہی جیسے بھُول گیا
اُس نے ایسی خبر سُنائی ہے
اُس کو کھویا تو دَشت ہاتھ آیا
یہ مِرے عِشق کی کمائی ہے
اپنے گھر میں ہی مارا جاؤں گا
میرا دُشمن ہی میرا بھائی ہے
مَیں مُسافِر تھا تیِرگی کا مِیاں
تُونے یہ رہ مُجھے دِکھائی ہے
اُس نے دیکھا ہے مُسکرا کے مُجھے
زِندگی پِھر سے مُسکرائی ہے
واپس جائیں