چاند تاروں، جگنوؤں میں زندگی لاتا ہے کون
وکٹر جان
غزلیات
مطالعات: 6
پسند: 0
چاند تاروں، جگنوؤں میں زندگی لاتا ہے کون
ظلمتوں کی آندھیوں میں یہ دیے رکھتا ہے کون
۔۔۔
میں تھا سر وہ تال بن کر زیست میں گھلتا گیا
نغمہ ہائے زندگی میں یوں بھلا ڈھلتا ہے کون
۔۔۔
خلوت و جلوت میں وہ تو میری سانسوں میں رہا
یاس کے ساگر میں میری آس بن جاتا ہے کرن
۔۔۔
نفرتوں کے درمیاں میں امن کا اک گیت ہوں
لیکن ان قاتل فضاؤں میں مجھے گاتا ہے کون
۔۔۔
وہ بہو تھی اس لیے اس کو جلا ڈالا گیا
اپنی بیٹی کو بھڑکتی آگ میں رکھتا ہے کون
۔۔۔
میں گناہوں کی ڈگر پہ جان جا نکلوں اگر
مجھ کو اپنی رحمتوں سے پھر بچا لاتا ہے کون
واپس جائیں