Fakhta logo
فاختہ بائبل اسٹڈی ٹولز
جلد متوقع مشمولات
موجِ گل: آزمائشِ ذات سے تہذیبی احتساب تک ایک فسوں انگیز مطالعہ - فاختہ

موجِ گل: آزمائشِ ذات سے تہذیبی احتساب تک ایک فسوں انگیز مطالعہ

وکٹر جان مضامین مطالعات: 15 پسند: 0

ریورنڈ ایس ایس ہینسن ریحانی لکھنوی کی شعری تصنیف موجِ گل اردو ادب کے اُس درخشاں سلسلۂ فکر کی امین ہے جس میں لکھنؤ کی کلاسیکی نزاکت، صوفیانہ باطن بینی اور عصری شعور کی حدّت ایک ہی شعری سانچے میں ڈھل کر جلوہ گر ہوتی ہے۔ مئی 1965ء میں زیورِ طباعت سے آراستہ ہونے والی یہ کتاب، جو نیشنل فائن پرنٹنگ پریس، چار کمان، حیدر آباد دکن سے شائع ہوئی اور ایک سو بارہ صفحات پر مشتمل ہے، محض غزلوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک فکری و روحانی بیانیہ ہے ایسا بیانیہ جو قاری کو لفظوں کی سطح سے اٹھا کر باطن کی گہرائیوں میں اتار دیتا ہے۔

موجِ گل کا آغاز ہی ایک ایسے اعلانِ ذات سے ہوتا ہے جو پورے مجموعے کی فکری جہت متعین کر دیتا ہے:
"تمام عمر مجھے تو نے آزمایا ہے
اب آ گئی ہے گھڑی تجھ کو آزمانے کی" (صفحہ 9)
یہ شعر محض احتجاج نہیں، وقار آمیز خود آگہی کا استعارہ ہے۔ یہاں شاعر بندگی اور خودداری کے اس نازک توازن کو چھوتا ہے جہاں انسان اپنی آزمائشوں کو تقدیر کا جبر نہیں بلکہ اپنی تکمیل کا وسیلہ سمجھتا ہے۔ اس اعلان میں ایک روحانی جرأت پوشیدہ ہے گویا شاعر زمانے، حالات بلکہ خود تقدیر سے ہم کلام ہے۔
اسی خود احتسابی کا گہرا شعور صفحہ 15 کے اس شعر میں اپنی مکمل معنویت کے ساتھ جلوہ گر ہے:
"قسمت کے نوشتے کو روئیں بھی تو کیا روئیں
جب غور کیا اپنی تحریر نظر آئی"
یہاں شاعر تقدیر کو الزام دینے کے بجائے اپنی ذات کے آئینے میں جھانکنے کا درس دیتا ہے۔ یہ شعر صوفیانہ بصیرت اور اخلاقی ذمہ داری کا حسین امتزاج ہے، جہاں انسان اپنی شکست و ریخت کا ذمہ دار خود کو قرار دیتا ہے۔

ریحانی لکھنوی کے ہاں زندگی ایک بحرِ بیکراں ہے، اور اس بحر میں ساحل تک رسائی سہارا ڈھونڈنے سے نہیں بلکہ سہارا چھوڑ دینے سے ممکن ہوتی ہے:
"کر دیا ترک جو کشتی کا سہارا ہم نے
پایا ہر موج کے دامن میں کنارا ہم نے" (صفحہ 22)
یہاں موج مصیبت بھی ہے اور امتحان بھی، مگر شاعر کے نزدیک یہی موج کنارہ بھی عطا کرتی ہے۔ یہ وہ عرفانی مقام ہے جہاں سالک آزمائش کو نعمت سمجھنے لگتا ہے۔
اسی فلسفے کی توسیع ہمیں صفحہ 60 پر ملتی ہے:
"زیست کے کچھ معرکے ایسے بھی ہیں
حوصلہ بڑھتا ہے جن میں ہار سے"
یہ شعر شکست کو بھی تربیتِ نفس کا درجہ دیتا ہے۔ ہار یہاں زوال نہیں بلکہ ارتقا کی سیڑھی ہے۔

اگرچہ ریحانی کلاسیکی غزل کے وارث ہیں، مگر ان کی نظر اپنے عہد کی تاریکیوں پر بھی مرکوز ہے۔ وہ جدید تہذیب کی چمک دمک کے پس پردہ اخلاقی انحطاط کو بے نقاب کرتے ہیں:
"اس روشنی کے دور میں ظلمت ہے اس قدر
انساں ہے دل میں نفرتِ انساں لیے ہوئے" (صفحہ 26)
یہ شعر جدیدیت کے کھوکھلے پن پر ایک عمیق تبصرہ ہے۔ سائنسی ترقی اور مادی آسائش کے باوجود انسان کے دل میں نفرت کا اندھیرا موجود ہے۔
اسی طرح مذہبی تنگ نظری پر ان کا طنز دیکھیے:
"شیخ اور برہمن کے ہتھکنڈے ارے توبہ
آدمی کو بیگانہ آدمی سے کرتے ہیں" (صفحہ 83)
یہاں شاعر وحدتِ انسانی کا علمبردار بن کر سامنے آتا ہے۔ وہ مذہبی پیشوائیت کے ان حربوں کو رد کرتا ہے جو انسان کو انسان سے جدا کر دیں۔

ریحانی کے ہاں ادراکِ محرومی بھی ایک مستقل موضوع ہے:
"یہاں دیکھنے کو تو کیا کیا نہ دیکھا
مگر حیف جو دیکھنا تھا نہ دیکھا" (صفحہ 31)
یہ شعر انسانی نظر کی محدودیت کا اعتراف ہے۔ انسان ظواہر میں کھو کر حقیقت سے محروم رہ جاتا ہے۔
اسی طرح کامیابی کے مفہوم کو بھی شاعر نئے سرے سے متعین کرتا ہے:
"لوگ سمجھے ہیں کامیاب جسے
در حقیقت وہ کامیاب کہاں" (صفحہ 71)
یہاں سماجی معیار کو چیلنج کیا گیا ہے اور باطنی سکون کو اصل کامیابی قرار دیا گیا ہے۔

ریحانی کے ہاں محبت محض رومانوی جذبہ نہیں بلکہ روحانی واردات ہے:
"کروں کیا منہ سے اظہارِ محبت
جبیں ہے آئینہ دارِ محبت" (صفحہ 34)
یہاں محبت زبان سے نہیں بلکہ وجود کی پیشانی سے جھلکتی ہے۔
اور پھر:
"اک محبت ہمارے لیے
حاصلِ دو جہاں ہو گئی" (صفحہ 40)
یہ محبت کو کائناتی وسعت عطا کرتا ہے محبت ہی دنیا و آخرت کا حاصل ہے۔
وجودی کرب اور انسانی بے بسی
شاعر انسانی کمزوری کو بھی بڑی نفاست سے بیان کرتا ہے:
"دستِ ساقی میں جام تھا لیکن
بڑھ کے لینے کا حوصلہ نہ ہوا" (صفحہ 42)
یہاں موقع موجود ہے مگر جرأت مفقود یہی انسانی المیہ ہے۔
اسی طرح اقتدار کی بے ثباتی پر طنز ملاحظہ ہو:
"نہیں کوئی خریدنے والا
تاج بکتا ہے تاجداروں کا" (صفحہ 50)
یہ شعر دنیاوی جاہ و حشمت کی ناپائیداری کا اعلان ہے۔
ارتقائے انسان اور تہذیبی بحران
ریحانی انسان کی سائنسی پرواز کو بھی نظر انداز نہیں کرتے:
"ستاروں کی جانب اڑا جا رہا ہے
یہ انساں قوانینِ فطرت بدل کے" (صفحہ 65)
مگر اسی انسان کی اخلاقی پستی پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔
کتاب کے اختتام پر شاعر تہذیبی زوال کا ایک کڑوا سچ بیان کرتا ہے:
"ہوتی ہے خطا اور سے پاتا ہے سزا اور
اس عالمِ تہذیب کے ہیں ارض و سما اور" (صفحہ 112)
یہ شعر اس نظامِ عدل پر سوالیہ نشان ہے جہاں جرم کوئی اور کرے اور سزا کسی اور کو ملے۔

موجِ گل دراصل ایک روحانی سفر ہے آزمائش سے آگہی تک، محبت سے معرفت تک، اور فرد سے معاشرہ تک۔ اس میں کلاسیکی رچاؤ کی خوشبو بھی ہے اور عصری شعور کی تپش بھی۔ ریحانی لکھنوی کی زبان اگرچہ عربی و فارسی تراکیب سے مرصع اور کسی قدر دقیق ہے، مگر یہی دشواری اس کے معنوی جلال کو دوچند کر دیتی ہے۔
یہ کتاب پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاعر لفظوں سے نہیں، اپنے باطن کے لہو سے تحریر کر رہا ہے۔ ہر شعر ایک موج ہے اور ہر موج میں ایک گل پوشیدہ اور یہی موج و گل کا امتزاج قاری کو ایک ایسے فسوں میں مبتلا کر دیتا ہے جہاں وہ دیر تک کھویا رہتا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ موجِ گل اردو شاعری کا محض ایک مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ فکری دستاویز ہیں ایسی دستاویز جو انسان کو خودی کی پہچان، محبت کی وسعت اور تہذیب کے احتساب کا شعور عطا کرتی ہے۔
واپس جائیں

Please mark your visit by following our Facebook Page
اگر آپ بھی اپنی نگارشات فاختہ ڈاٹ آرگ پر شائع کرانا چاہتے ہیں تو۔۔۔ خوش آمدید