اک ہجومِ الم میں ٹھہری ہے
وکٹر جان
غزلیات
مطالعات: 7
پسند: 0
اک ہجومِ الم میں ٹھہری ہے
زندگی بھی تو میری بیری ہے
۔۔۔
مجھ کو جاگیردار کر دے گی
وہ لحد جو ازل سے میری ہے
۔۔۔
ہے ستاروں کو ڈھونڈنے نکلا
زندگی جس کی گھپ اندھیری ہے
۔۔۔
تجھ کو روکوں بھی کس طرح سے میں
تیرا جانا بھی تو ضروری ہے
۔۔۔
امن اور آشتی کی راہوں میں
بے کراں ایک آہ و زاری ہے
۔۔۔
جان! مجھ پر یہ منکشف ہوا آخر
وہ بھی میرے بنا ادھوری ہے
واپس جائیں