سورج ڈھلتا اور ابھرتا رہتا ہے
وکٹر جان
غزلیات
مطالعات: 11
پسند: 0
سورج ڈھلتا اور ابھرتا رہتا ہے
وقت اپنے انداز بدلتا رہتا ہے
سوچوں تو ہر بار خطا تھی اِس کی ہی
مجھ پہ کیوں ہر بار برستا رہتا ہے
یوں لگتا ہے اب ملنا ہوگا محشر میں
روز نیا وہ وعدہ کرتا رہتا ہے
میں ہر لمحہ اُس کو پڑھتا رہتا ہوں
میرا فن اے جان نکھرتا رہتا ہے
واپس جائیں