مری ضیا ہے کرن سے آگے
وکٹر جان
غزلیات
مطالعات: 15
پسند: 0
مری ضیا ہے کرن سے آگے
تراش مجھ کو بدن سے آگے
متاعِ عرفان و آگہی ہے
مقامِ دار و رسن سے آگے
بہت ہی ناداں سپاہ جاں ہے
یہ معرکہ تو ہے رن سے آگے
یہ آنکھ دیکھو یہ اشک تولو
کہ بات نکلے سخن سے آگے
صبا کو مہمیز دو بہارو!
ہے اک بیاباں چمن سے آگے
مری وفا کا حصار توڑو
مرا جنوں ہے لگن سے آگے
جو مجھ تک آؤ تو جسم کیا ہے
مری محبت ہے من سے آگے
قیامتیں ہی قیامتیں ہیں
سنبھل کے آؤ دہن سے آگے
یہ دائرے ہیں سراب آسا
مرا تخیل ہے فن سے آگے
جو گن سکو تو انہیں بھی گننا
جو زخم ہیں اس کفن سے آگے
اے جان جو کچھ لکھا ہوا تھا
وہ تھا مگر تھا متن سے آگے
واپس جائیں